ابنا: مصر کے بنیادی آئین کی عدالت نے جمعرات کے روز بیرونی اور اسی طرح اپنے ملک کے معزول ڈیکٹیٹر حسنی مبارک سے وابستہ عناصر کے دباؤ میں آکر دو علیحدہ علیحدہ احکامات میں ایک جانب پارلیمنٹ کے ایک تہائی اراکین کی اہلیت ختم کردی اور دوسری جانب سیاسی برطرفی یعنی سیاسی سرگرمیوں سے محرومی کا قانون نافذالعمل نہ ہونے کی ہدایات جاری کی تھیں جس کی بنیاد پر حسنی مبارک دور کے آخری وزیر اعظم احمد شفیق کی صدارتی انتخابات کے دوسرے دور میں شرکت کی راہ ہموار ہوگئي ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ مصر کی رائے عامہ اپنے ملک کے صدارتی انتخابات میں سابق ڈیکٹیٹر حکومت سے وابستہ کسی بھی آلۂ کار کی شرکت کے خلاف رہی ہے ۔ مصر کی حکمراں اعلی فوجی کونسل کے غیر جمہوری اور غیر قانونی اقدامات اور اسی طرح مصری عوام کی رائے نظر انداز کئے جانے سے اس ملک کی مختلف جماعتوں اور عوام کی جانب سے وسیع پیمانے پر احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے اسلئے کہ مصری عوام پارلیمنٹ کی تحلیل پر مبنی بنیادی آئین کی عدالت کے فیصلے سے بہت زیادہ ناخوش ہیں ۔ مصری رائے عامہ کا خیال ہے کہ اس عدالت کو اس قسم کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہی حاصل نہیں تھا اسلئے کہ اس کا یہ قدم عدلیہ کے امور میں مداخلت کے مترادف ہے ۔ مصر کے عبوری بنیادی آئین کے مطابق پارلیمنٹ کی تشکیل کے بعد آئندہ کے صدر کے اختیارات فوجی کونسل سے پارلیمنٹ کو منتقل اور پھر صدارتی انتخابات کے بعد یہ اختیارات منتخب صدر کو سونپ دئے جانے چاہئیں ۔ دوسری طرف پارلیمنٹ کی جانب سے بنیادی آئین وضع کرنے کیلئے ایک کونسل تشکیل دیدی گئی ہے اور فوجی کونسل کو قانونی طور پر قانون وضع کرنے کے اختیارات واپس لینے کا حق ہرگزحاصل نہیں ہے ۔ پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد اس وقت یہ سوال درپیش ہے کہ صدارتی انتخابات کے بعد ملک کا منتخب صدر قانونی طور پر کس کے سامنے حلف برداری کریگا ۔ دریں اثنا مصر کی الوسط پارٹی کی ہائی کمان کے ایک سینیئر رکن عمروعامر نے مصر کی فوجی کونسل اور عدلیہ پر مصری عوام کے انقلاب کے خلاف بظاہر غیر محسوس کودتا کرنے کا الزام عائد کیا ہے ۔ انھوں نے کل کہا ہے کہ اقتدار کی منتقلی کے مرحلے میں فوجی کونسل اور بعض دیگر بااثراداروں نے حسنی مبارک کی حکومت کا ڈھانچہ باقی رکھنے اور مصری عوام کا انقلاب شکست سے دوچار کرنے کیلئے ملک کی عدلیہ اور مقنّنہ سے نہایت ہی مہارت سے فائدہ اٹھایا ہے اور سافٹ کودتا کے منصوبے پر عمل کیا ہے ۔ عامر نے تاکید کے ساتھہ کہا ہے کہ مصر کا انقلاب اپنی راہ طے کرتا رہے گا اور اس انقلاب کو ناکام بنانے کی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوسکے گی ۔ پارلیمنٹ کی تحلیل کے بعد اخوان المسلمین نے بھی ایک بیان میں مصری عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مصری انقلاب کی راہ میں اپنے خون کا نذرانہ پیش کرنے والوں کے دفاع میں اٹھہ کھڑے ہوں ۔ اخوان المسلمین سے وابستہ حزب آزادی و انصاف نے کل پارلیمنٹ کی تحلیل کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے تاکید کے ساتھہ کہا ہے کہ کوئي بھی فیصلہ صرف قوم ہی کرسکتی ہے اور عوام کا فیصلہ کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ۔ جبکہ اخوان المسلمین نے پارلیمنٹ کی تحلیل کے فیصلے کے بارے میں رفرینڈم کرائے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ الوسط پارٹی کے نائب سکریٹری جنرل عصام شبل نے بھی کہا ہے کہ مصری عوام کے انقلاب کے خلاف فوجی کودتا کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے اور پارلیمنٹ کی تحلیل ۔ سیاسی سرگرمیوں سے محروم کئے جانے کے قانون کو نظر انداز کرنے کے احکامات نیز مصری مظاہرین کا قتل عام کرنے والوں کو بری کئے جانے جیسے اقدامات مذکورہ دعوے کی تصدیق کے مترادف ہیں اور ان اقدامات کا مقصد صرف مصری عوام کے انقلاب کو ناکام بنانا ہے جبکہ مصری عوام ایسے شرمناک اقدامات پر کبھی خاموش نہیں رہیں گے اسلئے کہ مصری قوم اب خوف کے ماحول سے باہر نکل چکی ہے اور وہ اپنی کامیابی کا سفر بدستور جاری رکھے گی ۔ الوسط پارٹی کے نائب سکریٹری جنرل عصام شبل نے یہ بھی کہا کہ مصر کی سابق حکومت، امریکہ و اسرائیل کی نظر میں علاقے میں ان کے مفادات کا ایک بڑا ذریعہ شمار ہوتی تھی یہی وجہ ہے کہ وہ سابق ڈیکٹیٹرحسنی مبارک سے وابستہ عناصر کا تحفظ کرکے اس سابق آلۂ کار حکومت کا ڈھانچہ بچانے کی کوشش کررہے ہیں اسلئے کہ مصری انقلاب کی امنگوں سے ان مفادات کا خطرے میں پڑنا بالکل یقینی ہے ۔۔......./169
18 جون 2012 - 19:30
News ID: 323160
قاہرہ سے موصولہ خبروں اور رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ مصر میں اس ملک کے ڈیکٹیٹر حسنی مبارک کی حکومت کے زوال کے بعد بنیادی تبدیلیاں لانے کیلئے مصری عوام کا انقلاب ناکام بنانے اور اقتدار پر مکمل قبضہ کرنے کیلئے حکمراں اعلی فوجی کونسل کے ہٹ دھرمانہ اقدامات جاری ہیں اور اس کونسل نے مصری پارلیمنٹ تحلیل کردی ہے جیساکہ مصری پارلیمنٹ کے سکریٹرئیٹ نے کل اعلان کیا ہے کہ مصر کی اعلی فوجی کونسل کے سربراہ محمد حسین طنطاوی کی طرف سے پارلیمنٹ کی تحلیل کے احکامات موصول ہوئے ہیں ۔